ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / بابری مسجد ملکیت معاملہ : کرناٹک میں سخت حفاظتی اقدامات : فون کالس کی ٹیپنگ اور سوشیل میڈیا پر لگاتار نگرانی

بابری مسجد ملکیت معاملہ : کرناٹک میں سخت حفاظتی اقدامات : فون کالس کی ٹیپنگ اور سوشیل میڈیا پر لگاتار نگرانی

Fri, 08 Nov 2019 18:34:32    S.O. News Service

بنگلور :08؍نومبر(ایس اؤ نیوز) بابری مسجد ملکیت قضیہ کو لےکر  سپریم کورٹ سے جاری ہونے والے فیصلے کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت  کے وزرات داخلہ کی طرف سے کڑی نگرانی کرتےہوئے پولس افسران کو چوکنا رہنے  کی ہدایت دی گئی ہے ۔ ریاست کے پولس کمشنر سمیت تمام  ضلع کے سپرنٹنڈنٹ آف پولس (ایس پی ) صاحبان کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ شرپسند عناصر کے فون کالس کو ٹیپ کرے  اور سوشیل میڈیا کی کڑی نگرانی کریں۔ بتایا جارہا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے 17نومبر سے پہلے ہی  فیصلہ صادر کئے جانے کا امکان  ہے۔

ریاستی وزیر داخلہ بسورا ج بومائی نے کہاکہ فیصلے کو دیکھتے ہوئے ہم نے ریاست بھر میں امن وامان کو برقراررکھنے  پیشگی حفاظتی اقدامات کئے ہیں، ہم نے دونوں فرقوں کے  سبھی اہم طبقات کے ذمہ داران اور لیڈران سے بات چیت کی ہے اور دونوں طرف سے بہت ہی مثبت جواب ملا ہے ، ہمیں  اعتماد ہے کہ ہر طرح کا تعاون ملے گا۔سٹی پولس کمشنر بھاسکرراؤ نے بتایا کہ ذمہ داران اور لیڈران  نے بتایا ہےکہ وہ کسی بھی حال میں جشن یا مخالفت نہیں کریں گے اور اس سلسلےمیں کسی کا کوئی تعاون بھی نہیں کریں گے۔ بنگلورو میں کرناٹکا اسٹیٹ ریزرو پولس (کے ایس آر پی)، سٹی آرمیڈ ریزرو (سی اے آر) اور پیاراملٹری اہلکاروں کو شہر بھر میں تعینات کیا گیا ہے۔

منگلورو کے سنئیر پولس آفیسر نے بتایا کہ اعلیٰ افسران کی طرف سے جس طرح کی ہدایات ملی ہیں اس کے مطابق عوامی سطح پر ہر طرف سے کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فرقہ پرست ، شر پسند عناصر اور جن کی وجہ سے امن میں خلل پڑنے کا امکان ہو ان کے فون کالس ٹیپ  کرنےکے ساتھ ساتھ اُس پر کڑی نگرانی  بھی رکھی جائے گی ۔ فون کالس کے غلط استعمالات پر پوچھے گئے سوال پر انہوں نےکہاکہ کڑے اصول و ضوابط کی بندش لگائی گئی ہے۔

اُدھر  رائچور کے ایس پی ویدا مورتی  نے کہاکہ مشتبہ افراد کے فون کالس ٹیپ  کئے جائیں گے۔ محکمہ پولس لگاتار سوشیل میڈیا جیسے وہاٹس ایپ، فیس بک اور ٹیوٹر وغیرہ کی  نگرانی کرتےہوئے جائزہ لیتے رہے گا۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی طرح کے ہتک آمیز یا نفرت پھیلانے والے  پیغامات ارسال نہ کریں۔

محکمہ پولس کی نگرانی پر موظف ڈی جی اینڈ آئی جی پی شنکر بیدری نےکہاکہ بعض سنسنی خیز اور ہنگامی صورت حال میں نگرانی کی  جاتی رہی ہے۔ سماج کو نقصان پہنچانے والے عناصر کی نگرانی ضروری ہوتی ہے، معمول کے مطابق یہ ہوتا رہتا ہے اس سلسلےمیں کسی بےچینی کی بات نہیں ہے دراصل پولس یہ سب کچھ معاشرے میں امن وامان کو باقی رکھنے کے لئے کرتی ہے۔


Share: